Orhan

Add To collaction

بھیگی پلکوں پر

اس کی بے حد روشن آنکھوں میں بلا کی شوخی تھی ۔ وہ اس کے قریب آیا ارو دونوں بازوؤں کو سینے پر لپیٹے ہوئے بے حد آسودہ مسکراہٹ لیے ہوئے تھا، وہ یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا گویا اس چہرے کی کشش ہی اسے یہاں کھینچ لائی ہو، بے حد لگاؤ ، محبت و اپنائیت کے ان گنت دیپ ان نگاہوں میں روشن تھے ۔ کوئی عامیانہ پن اس کے مزاج و انداز میں موجود نہ تھا۔
اس کی نگاہوں کی حدت سے پری کے رخسار دھک اٹھے، صاف وشفاف رنگت میں شفق سی پھوٹ پڑی تھی وہ اس کی محویت پر نروس ہورہی تھی ۔ اس کی غیر متوقع آمد اور اس کی وارفتگی پری کو پہلی بار یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئی کہ اس کے سامنے موجود شخص کی پرسنیلٹی اٹریکٹو ہے وجاحت کے لحاظ سے وہ ایک آئیڈیل شخص ہے اگر عادلہ اس کے حصول کے لیے اپنی انا، نسوانیت و ذاتی افتخار کی بھی قربانی دینے کو تیار تھی تو …حق بجانب تھی ۔


 
”اوہ! یہ کیا سوچ رہی ہوں میں ؟کیا دماغ خراب ہوگیا ہے میرا ؟“جھری جھری لے کر اس نے خود کو سرزنش کیا اور اس سے مخاطب ہوئی ۔ 
”طغرل بھائی ! اندر چلیں، دادی جان نماز کی ادائیگی کے بعد تسبیحات کا ورد کر رہی ہوں گی ۔ آپ مل لیں ان سے اشراق کی نماز کے بعد وہ اپنے وظائف میں مشغول ہوجائیں گی تو آپ کو انتظار کرنا پڑے گا ، وظائف کے دوران وہ گفتگو نہیں کرتی ہیں “
”اوہ! اس نے طویل سانس لے کر مسکراتے ہوئے کہا “کچھ دیر اور اسی طرح خاموش کھڑی نہیں رہ سکتی تھی یار!
”کس لیے کھڑی رہتی بھلا؟“وہ حیرت سے گویا ہوئی ۔
 
”رئیلی ! تم پر جب میری پہلی نظر پڑی تو میں یہی سمجھا کہ سچ مچ کوئی پری راستہ بھٹک کر یہاں لان میں آگئی ہے ۔ “
”اف…مائی گاڈ!آپ کی باتیں بنانے کی عادت نہیں جائے گی “اس کے انداز میں وہی مخصوص زچ کرنے والی شرارت محسوس کرکے وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی ۔ 
”دیکھا نہ منہ کھولتے ہی تم نے بتادیا تم پری نہیں، پری کی متبادل ہو ، میرا مطلب ہے … چڑیل!“لائٹ بلو جیز وہائٹ شرٹ میں ملبوس اس کے چہرے کی سرخیاں نمایاں تھیں، جس میں طمانیت کا گہرا رنگ اور آسودگی موجزن تھی اور کیوں نہ ہوتی جس چہرے کو سب سے پہلے دیکھنے کی آرزو لیے وہ جہاز سے اترا تھا وہ گھری قبولیت کی گھڑی بن گئی تھی ۔
اس کی محبت…اس کی آرزو…نگاہوں کے سامنے تھی، پنک سوٹ میں چہرے کو پنک آنچل سے ڈھانپے سحر نو کے خواب ناک دھندلکے میں سبز گھاس پر اس کے سفید و نازک پاؤں دھیرے دھیرے بڑھ رہے تھے ۔ 
اس کی نگاہ بے ساختہ اٹھی تھی اور جھکنا بھول گئی۔ لان میں بے شمار کھلے گلاب کے پھولوں کی طرح وہ بھی ایک ادھ کھلی گلاب کی کلی لگ رہی تھی۔ ہوشربا مدہوش کردینے والا حسن تھا، اس کے چہرے کو مبہوت سا دیکھتا رہا اور نامعلوم کب تک وہ اسی طرح دیکھتا رہتا، مبادا پری کی نگاہیں اس پر پڑ جاتیں اور اپنی جھینپ مٹانے کے لیے وہ اس سے مخصوص شرارتی لہجے میں گویا ہوا۔
 
”دادی جان بالکل ٹھیک کہتی ہیں آپ کے بارے میں “پری کا موڈ بگڑنے میں کیا دیر لگتی تھی وہ غصے سے کہتے آگے بڑھ گئی ۔ 
”اچھا …کیا کہتی ہیں دادی جان میرے بارے میں “وہ بھی اس کیساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ 
”یہی کہ طغرل کو سو ہزار سال بھی کسی نلکی میں رکھو اور نکالو تو پھر بھی ٹیڑھا کا ٹیڑھا ہی نکلے گا ۔ ہاہاہا…“وہ بے ساختہ ہنس پڑا۔
 
”لیکن مجھے یقین نہیں ہے دادی جان میرے بارے میں ایسا کچھ کہہ سکتی ہیں ، یہ ہوائی تو کسی دشمن نے اڑائی ہے“ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بے یقینی سے گویا ہوا۔ 
”آپ ابھی یہیں رکیں، میں پہلے دادی جان کو آپ کے آنے کا بتادوں، کہیں ایسا نہ ہو خدانخواستہ آپ کو اچانک سامنے دیکھ کر وہ خوشی برداشت نہ کرسکیں اور ان کی طبیعت خراب ہوجائے “اس کی چھیڑ چھاڑ نظر انداز کرکے اور اس کا جواب سنے بنا دادی جان کے کمرے میں آگئی وہ اپنی نماز کی چوکی پر بیٹھیں تسبیح پڑھ رہی تھی ۔
پری کی مسکراہٹ سے جگمگاتے چہرے کو دیکھ کر ان کے پر نور چہرے پر شفیق مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ پری ان کے قریب آکر بیٹھی تو تسبیح چوم کر اس کے چہرے پر انہوں نے پھونک ماری اور رحل پر تسبیح رکھتے ہوئے استفسار کرنے لگیں۔ 
”ماشاء اللہ! آج تو صبح صبح ہی خوش نظر آرہی ہو ، کیا بات ہے ؟“
”آپ بات سنیں گی تو مجھ سے زیادہ خوش ہوجائیں گی دادی جان !“
”ایسی کیا بات ہے جو مجھے خوش کردے ؟“
”آپ بتائیے ! ایسی کیا بات ہوسکتی ہے جس سے آپ خوش ہوجائیں “وہ جان کر باہر کھڑے طغرل کو ستارہی تھی ۔
 
”ایسی بات جو مجھے خوش کردی …ممکن کہاں ہے پری!تو بتا کیا بات ہے؟خواہ مخواہ صبح کے وقت کسوٹی مت کھیل مجھ سے “ان کے نرم لہجے میں آزردگی بھر آئی تھی ۔ 
”اچھی دادی جان! آپ بتائیں تو سہی ، آپ کس سے خوش ہوں گی ، کسی کو دیکھنا چاہتی ہیں آپ؟کسی سے ملنا چاہتی ہیں آپ؟“
”ارے ایک وہ ہی تو ہے جس سے ملنے کے لیے میں بے قرار ہوں، جو کئی دنوں سے فون تک نہیں کر رہا طغرل… میرابچہ! جس کی یاد ہر لمحہ میرے دل سے لگی رہتی ہے “وہ بولتے بولتے یک دم آبدیدہ ہوگئیں تو پری نے کہا ۔
 
”دادی جان!آپ کی دلی مراد برآئی ہے ، طغرل بھائی آگئے ہیں “ 
”ارے پری! تم باؤلی تو نہیں ہوگئی لو بھلا وہ اتنی جلدی کس طرح آسکتا ہے ؟ابھی اسے گئے دن ہی…“
”السلام علیکم دادی جان ! “ان کی بات ادھوری ہی رہ گئی اور طغرل پردہ ہٹا کر اندر چلا آیا اور سلام کرتا محبت سے لپٹ گیا۔ 
###
گرگٹ اور مرد میں کچھ عادات یکساں ہوتی ہیں جس طرح گرگٹ جگہ اور موقع دیکھ کر رنگ بدل لیتا ہے اسی طرح کچھ مردوں کی خصلتیں بھی بدلتی رہتی ہیں۔
جس طرح عورتوں کی فطرت بدل نہیں سکتی ، دونوں ایک دوسرے کے مخالف بھی ہیں تو لازم و ملزوم بھی مرد و عورت…اس دنیا کو خوب صورت رنگوں سے سجانے والے، جن کی محبت اور جائز رشتوں کی چاندنی ہر سو بکھرتی ہے اور جب ان رشتوں میں حارث کرمانی جیسے بدکردار و عیاش مرد غلیظ رشتوں کی غلاظتیں بکھیرتے ہیں تو عورت اور مرد کا وہ مقدس اور محبت بھرا رشتہ داغ دار ہوجاتا ہے۔
جس کی اساس آدم اور حوا نے رکھی تھی ، جو ان رشتوں کی حرمت کو پامال کرتا ہے وہ انسان نما گدھ ہوتا ہے اور…حارث کرمانی بھی ایک ایسا ہی گدھ تھا یا ایک ایسا گرگٹ جس نے اپنی خواہش کے لیے رنگ بدل لیا تھا۔ وہ جو سمجھ رہی تھی وہ حارث کرمانی کی التفات پانے میں کامیاب ہوگئی ہے وہ اس کی نظر نگاہ بن گئی ہے ۔ وہ حارث کرمانی جو صبح اس کا چہرہ دیکھ کر شروع کرتا ہے جس کی زبان پر ہر وقت اس کی تعریف رہتی ہے۔
وہ اسے فقط ایک گھوڑے کی خاطر داؤد کو گفٹ کردے گا۔ 
 حسین و جمیل نوعمر ماہ رخ…اعلیٰ نسل کا عربی گھوڑا…دو مردوں کی اولین پسند…ایک انسان…ایک جانور! انسان کے مقابل جانور کی کوئی وقعت نہیں ہوتی کہ جانور …جانور ہی ہوتا ہے خواہ وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو لیکن یہاں فیصلہ وہ لوگ کر رہے تھے جو سرمستیوں میں اس حد تک غرق ہوچکے تھے کہ وہ یہ تمام تفریق بھول چکے تھے سو فیصلہ ہوگیا تھا۔
داؤد مرتضیٰ کا چہیتا لاڈلا گھوڑا حارث کرمانی کی ملکیت بن چکا تھا، ماہ رخ داؤد مرتضیٰ کے پہلو میں بیٹھی عازم سفر تھی، سیاہ ستاروں سے جھلملاتے سیاہ لباس میں وہ خاموش بیٹھی ہوئی تھی کسی حسین گڑیا کی مانند لگ رہی تھی۔ ریشمی بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے لبوں پر خاموشی سجائے وہ دل میں ہزاروں طوفانوں سے نبرد آزما تھی۔ 
”بہت خاموش ہو میری جان!“داؤد نے انگلی سے اس کے گال کو چھوتے ہوئے کہا۔
 
”حارث کرمانی کو چھوڑ کر آنے کا دکھ ہورہا ہے تم کو ؟“حارث کرمانی کے نام پر جو نفرت آمیز مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر در آئی تھی اس مسکان نے داؤد مرتضیٰ کو اس کی دلی حالت کا اندازہ لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور وہ مطمئن ہوکر گویا ہوا۔ 
”میں جانتا ہوں حارث کرمانی جیسے گھٹیا آدمی کے ساتھ تم جیسی نائس گرل کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتی “اس کو قریب کرتا ہوا استحقاق بھرے لہجے میں بولا۔
 
”تم صرف میرے لیے بنی ہو، تم پر پڑی پہلی نگاہ نے ہی میرے دل نے بتادیا تھا کہ تم میری ہو ماہ رخ! برسوں سے مجھے تمہاری تلاش تھی، میرے پارس پر حارث کی کب سے نظر تھی ، وہ پارس اسے ایک دن پسند آگیا تھااور اس نے بے تحاشا دولت کی پیش کش کی مگر میں اس کی ہر آفر کو رد کرتا چلا گیا کہ میرے پارس سے زیادہ عزیزمجھے کچھ نہ تھا اور میرے انکار کو جواز بناکر حارث نے جنگ یعنی خاموش جنگ کا آغاز کردیا اور ریس کورس، کلب اور دوسری جگہوں پر وہ مجھے ہراتا چلا گیا مگر میں نے پارس اس کے حوالے نہیں کیا اس سے بے حد نقصان اٹھانے کے باوجود بھی اور تم کو دیکھا تو فیل ہوا تم میری سب سے بڑی پراپرٹی ہو، تمہیں کھوکر جی نہیں پاؤں گا “
”حارث کرمانی نے میری قیمت پارس کے بدلے لگائی تھی ؟“
”قیمت نہیں گفٹ میری جان! میں نے اسے پارس گفٹ کیا اور اس نے مجھے گفٹ میں میری زندگی دی ہے “

   1
0 Comments